Instagram

Thursday, 16 November 2017

Imam Hasan Ki Sakhawat Awr Fayyazi

امام حسن مجتبیٰ کی سخاوت و فیاضی
( ماخوذ:تذکرۂ اہل بیت ، مرتبین: پروفیسر ڈاکٹر سیدمحمد امین میاں قادری و ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی ، ص 210)
حسنِ مجتبیٰ سید الاسخیاء
راکب دوشِ عزت پہ لاکھوں سلام
سخاوت وفیاضی حضرت امام حسن کو ورثے میں ملی تھی، مستند روایتوں میں ملتا ہے جب دریائے سخاوت جوش میں آتا تو بسا اوقات آپ غرباء ومساکین میں ایک ایک شخص کو ایک ایک لاکھ درہم تک عطا فر مادیتے تھے ۔ ابن سعد، علی بن زیدسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تین بار آدھا آدھا مال راہ خدا میں دے دیا اور دو مرتبہ اپنا پورا مال اللہ کے راستہ میں خرچ کردیا۔( تاریخ الخلفاء،جلال الدین سیوطی،( ترجمہ ) ص ۲۰۰، دہلی )
سخاوت کے تعلق سے ایک دوسرا واقعہ حضرت امام یافعی نے مرأۃ الجنان میں ذکر کیا ہے، وہ فر ماتے ہیں کہ: ایک شخص نے حضرت امام حسن سے کچھ مانگا تو آپ نے اس کو پچاس ہزار درہم اور پانچ سو اشرفیاں بخش دیں اور فر مایا مزدور لا کر سب اٹھا لے جا! جب وہ مزدور لایا تو اس مزدور کوبھی حضرت نے اپنا چوغا دے دیا اور فر مایا کہ مزدور کی مزدوری بھی میری ہی طرف سے ہونی چا ہیے ۔ ( مراۃ الجنان،یافعی جلد اول، ص ۱۲۳)
صاحب مرأۃ الجنان لکھتے ہیں کہ: حضرت امام حسن کے زہد کی حالت یہ تھی کہ تین مرتبہ اپنا کل مال راہ خدا میں تقسیم کردیا اور دودفعہ آدھا مال بخش دیا یہاں تک کہ اپنے جوتے بھی، آدھے اپنے پاس رکھ لئے اور آدھے دوسروں کو دے دئے۔ ایک شخص نے حضرت امام حسن سے کچھ مانگا اور اپنے حال زار کی شکایت کی تو آپ اپنے کارندے کو بلا کر اس سے اپنی آمد وخرچ کا حساب لینے لگے ،جب حساب پورا ہو چکا تو اس کارندے سے فر مایا: اب جو کچھ تمھارے پاس میرا مال بچاہو لے آؤ وہ پچاس ہزار درہم لایا: پھر آپ نے فر مایا: تمہارے پاس میری پانچ سو اشرفیاں بھی تو تھیں؟ اس نے عرض کی ہاں وہ بھی موجود ہیں ۔حضرت نے وہ بھی منگا کر کل درہم اور اشرفیاں اس سائل کو دے دیں پھر اس سے عذر خواہی کر نے لگے ۔ اسی طرح حضرت امام حسن نے کسی جگہ سنا کہ کوئی سائل خدا سے دس درہم مانگ رہا ہے یہ سنتے ہی آپ اپنے دو لت کدہ پر تشریف لا ئے اور اس سائل کے پاس دس ہزار درہم بھیجوا دئے ۔ حضرت امام حسن کا حال یہ تھا خود تو فاقہ سے رہنا گوارا کر لیتے مگر کسی سائل کو اپنے دروازہ سے خالی ہاتھ واپس نہیں کیاکرتے تھے اور فر مایا کرتے تھے میں خدا کی بارگاہ کا سائل اور اس سے مانگنے والاہوں، مجھے شرم آتی ہے کہ خود خدا کا سائل ہو کر دوسرے سائل کو رد کروں، خدا نے میرے ساتھ اپنی یہ عادت جاری کر رکھی ہے کہ مجھے اپنی نعمتیں دیتا رہتاہے اور میں نے دوسروں کے ساتھ یہ عادت کر لی ہے کہ خدا کی نعمتوں کو اس کی خلقت تک پہنچاتا رہتا ہوں اب میں ڈرتاہوں کہ اگر میں اپنی عادت روک دوں تو خدا بھی اپنی عادت نہ موقوف کر دے۔ ( تاریخ ائمہ ،سید حیدر علی، ص ۲۴۷، کجھوا مطبوعہ ۱۳۵۲)
جود وبخشش کا یہ عالم تھا کہ دیتے ایک لاکھ
اپنے منگتا سے نہ کہتے تھے نہیں حضرت حسن

No automatic alt text available. 


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg 

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg