Instagram

Monday, 25 December 2017

Khateebul Baraheen Awr Khanqah E Razvia

خطیب البراھین اورخانقاہ رضویہ
مفتی شکیل الرحمٰن نظامی مصباحی
 پیر طریقت ،رہبر شریعت ،حضور خطیب البراہین حضرت علامہ الحاج الشاہ صوفی مفتی محمدنظام الدین قادری برکاتی رضوی علیہ الرحمۃ والرضوان کو مجدد ملت طاہرہ امام احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور آپ کے خانوادے سے بے پناہ عقیدت و محبت تھی،آپ کے سامنے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ذکر چھڑ جاتا تومچل جاتے،تقریروں میں اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اشعار برمحل پیش کرتے اور مچل مچل کر فرماتے:
 اللہ اللہ!کیا فرمایا ہے،عاشق رسول امام عشق ومحبت بریلی کے تاجدار امام احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اور عشق رسول میں پورے طورپر ڈوب جاتے۔
حضورخطیب البراہین علیہ الرحمہ کو مسلک اعلیٰ حضرت سے عشق کی حدتک لگاؤ تھا،اسی لیے آپ نے اپنی پوری زندگی مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ میں گزار دی۔
 ایک مرتبہ حضورخطیب البراہین علیہ الرحمہ عرس حافظ ملت کے موقع پر مبارکپور تشریف لائے،ماسٹرتاجدار صاحب کی والدہ ماجدہ نے راقم الحروف سے مرید کرانے کے لیے بہت اصرار کیا،میں حضورخطیب البراہین علیہ الرحمہ کو لے کر ان کے گھر گیا، حضرت راستے میں کچھ تلقین فرماتے آرہے تھے،اسی درمیان حضرت نے فرمایا،بیٹا!مسلک اعلیٰ حضرت سنیت کی علامت ہے جو اس سے ہٹا وہ ہٹا کیوں کہ آج تمام باطل فرقے اپنے آپ کو سنی کہتے ہیں،ان سے امتیاز کے لیے مسلک اعلیٰ حضرت سنیت کی علامت بن گیا ہے کیوں کہ مسلک اعلیٰ حضرت کوئی نیا مسلک نہیں بلکہ اہل سنت وجماعت کا ہی نام مسلک اعلیٰ حضرت ہے۔
 حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے آپ کو بیعت کا شرف حاصل تھا،حضور احسن العلمااور خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند حضور رئیس الاتقیا علیہما الرحمہ سے آپ کو اجازت وخلافت حاصل تھی،اسی لیے آپ فرماتے ہیں:
 ’’ عاشق رسول امام احمدرضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت سے جو فقیر کے دل میں ایک والہانہ محبت وعقیدت پیداہوئی یہ حضور رئیس الاتقیا حضرت علامہ الحاج حافظ محمدمبین الدین امروہوی علیہ الرحمہ کی دین ہے‘‘۔
 حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے آپ بے پناہ محبت فرماتے تھے۔مولاناتوکل حسین صاحب بیان کرتے ہیں:
 ’’جب میں حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کی غرض سے آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتاتو آپ حضور صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کے حالات ضرور دریافت کرتے اور فرماتے انھیں میراسلام کہہ دیجیے گا اور میں آکر حضور صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے عرض کرتا تو آپ فوراً کارڈ کے ذریعہ جواب تحریر فرماتے‘‘۔
 راقم الحروف کے چچا انعام الدین صاحب فرمارہے تھے کہ ’’ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ جب ممبئی تشریف لاتے تو ملنے والوں کے لیے وقت متعین ہوتا لیکن جب میں جاتا اور کہلوادیتا کہ کہہ دیجیے کہ صوفی صاحب کے بھائی آپ سے ملنا چاہتے ہیں،آپ فوراً بلوالیتے اور بہت خوش ہوتے کہ صوفی صاحب کے بھائی آئے ہیں اور صوفی صاحب کا حال پوچھتے‘‘اس سے حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں آپ کی مقبولیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے۔
 مولانا توکل حسین صاحب فرماتے ہیں کہ مفتی نانپارہ حضرت مفتی رجب علی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نے ایک موقع پر فرمایا:
 ’’ ایک مرتبہ میں مدرسے کا جلسہ رکھا اور مقررین کے انتخاب کے لیے سوچ رہا تھا،رات میں خواب دیکھا کہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تشریف لائے اور فرمارہے ہیں کہ جلسہ میں صوفی نظام الدین کو بلاؤ‘‘اس سے صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے قلبی لگاؤ اور آپ پر اعتماد کا واضح پتہ چلتاہے۔
 حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ایک مرتبہ آپ کے گاؤں اگیا میں بھی تشریف لائے اس وقت حضرت نے بہت سارے لوگوں کو آپ سے مرید کرایا،حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ بہت خوش ہوکر تشریف لے گیے۔
 بریلی شریف پڑھانے کے لیے حضور رئیس الاتقیا حضرت علامہ الحاج حافظ مبین الدین امروہوی علیہ الرحمہ نے آپ کو طلب کیا تھا اور آپ کا حکم آیا کہ آپ بریلی شریف کی عظیم درس گاہ میں تدریسی فرائض کی خدمت کے لیے فوراً حاضر ہوجائیں، یہ حضرت کی بے پناہ محبت اور لگن کا ہی نتیجہ تھا کہ آپ کو پڑھانے کے لیے بریلی شریف طلب کیا لیکن آپ کے رفیق ہم درس حضرت علامہ سخاوت علی علیہ الرحمہ دارالعلوم اہل سنت تنویر الاسلام امرڈوبھا نے شدید اصرار کیا کہ آپ فروغ علم نبوت میں میری معاونت کیجیے،اس کشمکش کی صورت میں آپ نے اپنے مشفق استاذ حضور محدث امروہوی علیہ الرحمہ کو صورت حال سے آگاہ کیا اور ان حالات میں آپ جو حکم دیں میں تعمیل کے لیے تیارہوں،آپ کے دیرینہ تعلقات اور گھر سے قریب ہونے کی وجہ سے امرڈوبھا پڑھانے کی اجازت دے دی۔
 ایک مرتبہ حضور تاج الشریعہ ازہری میاں دام ظلہٗ العالی بسڈیلہ میں تشریف لائے،جب آپ اسٹیج پر پہونچے میں بھی حضرت کے بغل میں مولانامحمدحبیب الرحمٰن صاحب قبلہ کے ساتھ بیٹھ گیا،حضور ازہری میاں صاحب قبلہ نے پہونچتے ہی پوچھا کہ صوفی صاحب کہاں ہیں؟مولانامحمدحبیب الرحمٰن صاحب قبلہ نے عرض کیا کہ حضرت کمرے میں تشریف فرماہیں،آپ فرمانے لگے کہ ان سے ملنا ہے،جب حضور صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ اسٹیج پر تشریف لائے تو بہت پُرتپاک اور گرم جوشی کے ساتھ آپ ان سے ملے۔
 مذکورہ بالاسطور سے حضور صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ سے لگاؤ اور الفت وعقیدت کو ملاحظہ کیا جاسکتاہے اور سچ پوچھیے توآپ نے پوری زندگی مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ اور اس کی نشرواشاعت کے لیے وقف کررکھی تھی۔
افسوس کہ یہ علم وفضل کا آفتاب وماہتاب یکم جمادی الاول ۱۴۳۴؁ھ مطابق ۱۴۴؍مارچ ۲۰۱۳؁ء بروز جمعرات صبح آٹھ بجے اس دارفانی سے دارجاودانی کی طرف کوچ کرگیا۔اناللّٰہ وانا الیہ راجعون


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg