Instagram

Monday, 25 December 2017

Khateebul Baraheen Bahaesiat Muballig E Islam

خطیب البراہین بحیثیت مبلغ اسلام
مفتی محمد منظر وسیم مصباحی
پرنسپل قادریہ ایجوکیشن سینٹرلیلنگوے ملاوی سینٹرل افریقہ
پس منظر : حضرت علامہ شاہ صوفی مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ علیہ الرحمہ اور والد گرامی حضرت مفتی سخاوت علی علیہ الرحمہ نے اپنی تعلیم مکمل کرکے میدان عمل میں ساتھ ساتھ قدم رکھا ۔ یہ وہ دور تھا کہ تپا اجیار (حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کے وطن مالوف اگیا اور اس کے اطراف کا علاقہ) بلکہ پورے ضلع بستی میں علما انگلیوں پر گنے جاتے تھے ۔یہ بڑاہی پر آشوب اور جہالت زدہ دور تھا ۔ لوگ اسلامی تعلیم سے کوسوںدور تھے، قسم قسم کے غیر شرعی رسم ورواج معاشرے میں رائج تھے۔ قوم کو ضرورت تھی ایک مصلح اور مبلغ کی ۔آپ دونوں حضرات نے علاقہ کے پہلے علما ہونے کی حیثیت سے اپنی ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے تبلیغ دین اور اصلاح معاشرہ کا کام ساتھ ساتھ شروع کیا۔ 
پورے علاقے سے غیر شرعی رسوم کی روک تھام کے ساتھ نوجوانوں کو دینی تعلیم کی طرف راغب کرنا شروع کیااور قوم کو علمائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد فراہمی کی جوکہ آپ کا ایک بہت بڑا تبلیغی کارنامہ ہے ۔ حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کوعلاقہ کے سارے علما نے اپنا قائد اور آئیڈیل مانا۔ اس حیثیت سے آپ کی ذات حقیقی معنی میں مبلغ اسلام کہلانے کی حقدار تھی۔ زیر نظر مختصر سی یہ تحریر انہیں احساسات کی ترجمان ہے۔
 عہد حاضر میں تبلیغ اسلام کے دو اہم ذریعے ہیں ۔ شریعت اور طریقت۔ حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی شخصیت ان دونوں ذریعوں کا سنگم تھی اور دین متین کی ترویج واشاعت میں آپ نے دونوں میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔
جب آپ مسند تدریس یا کرسی خطابت  پر جلوہ گر ہوتے توشریعت کے پیکر نظر آتے۔ یوں ہی جب آپ مریدین ومعتقدین کے ما بین تشریف فرما ہوتے توطریقت وتصوف آپ پر نازاں نظر آتے۔ 
قرآن مقدس میں ارشادہوا:
’’ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ و جادلہم بالتی ہی أحسن۔۔‘‘ (النحل : ۱۲۵)

اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے  اور ان سے اس طریقہ پر بحث کروجو سب سے بہتر ہو۔ (کنز الایمان)
تفسیر جلالین میں ہے:
’’ادع (الناس یا محمد) الی سبیل ربک (دینہ)  بالحکمۃ (بالقرآن) والموعظۃ الحسنۃ (موعظۃ أوالقول الرقیق) و جادلہم بالتی (أی المجادلۃ التی ) ہی أحسن (کالدعاء الی اللّٰہ بآیاتہ والدعاء الی حججہ)‘‘ (النحل : ۱۲۵)

آپ ﷺ لوگوں کو اپنے رب کی راہ  یعنی اس کے دین کی طرف بلائیں حکمت یعنی قرآن اور اچھی نصیحت یا نرم گفتاری کے ساتھ اور ان سے اس طریقہ پر بحث کریںجو سب سے بہتر ہوجیسے کہ اللہ کی طرف بلانا اس کی نشانیوں کے ذریعہ۔ 
صدرالافاضل حضرت سید محمد نعیم الدین مرادآبادی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
’’بہتر طریق سے مرادیہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف اس کی آیات اور دلائل سے بلائیں۔‘‘
آیت کریمہ میں تبلیغ دین کے لیے تین خصائل کا ذکر ہوا۔ (۱) الحکمۃ ۔پکی تدبیر( ۲)  الموعظۃ الحسنۃ ۔ــ اچھی نصیحت( ۳) جادلہم بالتی ہی أحسن۔ ــ سب سے بہتر طریقہ پر بحث ۔

 حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کے خطابات کا اگر آپ جائزہ لیں تو یہ ساری خصلتین پائینگے۔ آپ کا انداز خطاب کچھ اس طرح ہوا کرتا تھا: اولا خطبہ مسنونہ اور موضوع کی مناسبت سے آیت کریمہ کی تلاوت۔ پھر نرم گفتاری کے ساتھ جو دلائل وبراہین کا سلسلہ شروع ہوتا توآخر خطاب تک جاری رہتا۔ دوران خطاب موضوع کی مناسبت سے امام اہل سنت رضی اللہ عنہ کے اشعارکا ذکر زرور ہوتا جوبراہین نقلیہ اور عقلیہ کو ذہن نشین ہونے میں اہم کردار ادا کرتا۔
 جس طرح میدان شریعت میں آپ نے کارہاے نمایاں انجام دئے اسی طرح میدان طریقت میں بھی آپ کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ تقوی و پرہیزگاری میں بھی یگانہ روزگار تھے، آپ کے تقوی کے بنا پر ہی لوگ آپ کو صوفی صاحب کہنے لگے آپ کا ہے لقب اس قدرزبان زد عام و خاص تھا کہ صوفی صاحب کہنے پر ہر کسی کا ذہن آپ ہی کی طرف جاتا تھا۔ 
آپ ۱۹۹۰ئ؁؁ میں اپنی والدہ ماجدہ اور اپنے صاحبزادے حبیب العلما حضرت علامہ محمد حبیب الرحمٰن صاحب قبلہ کے ساتھ حج پر تشریف لے گیے، دوبارہ حج نفل کرنے کے لیے مریدوںنے کافی اصرارکیا جس پر آپ نے علما سے مشورہ کیا ، علما نے حج نفل کے لیے تصویر کشی سے احتراز کا مشورہ دیا، اسباب کی فراہمی کے باوجود بھی آپ نے تقویٰ کو ترجیح دی اور حج نفل نہ کیا۔

آپ کا حلقہ مریدین ومعتقدین کافی وسیع ہے۔ آپ کے مریدین کی تعدادلاکھوںمیں ہے۔ جس میں علما ، اسکالرس ، مدارس کے طلبہ ، کالجز کے طلبہ نیز عوام الناس کے ہر طبقہ کے لوگ پائے جاتے ہیں، جو بھی آپ کو دیکھ لیتا گرویدہ ہو کر بیعت ہوجاتا۔عالم اسلام میں حضرت صوفی صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی مقبولیت مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
قرآن مقدس میں ارشادہوا:
’’ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات سیجعل لہم الرحمٰن ودا ۔۔‘‘ (مریم : ۹۶)

بے شک وہ جو ایمان لائے  اور اچھے کام کئے عنقریب ان کے لئے رحمٰن محبت کردے گا۔ (کنز الایمان)
صدرالافاضل حضرت سید محمد نعیم الدین مرادآبادی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
 ’’یعنی اپنا محبوب بنائے گا اور اپنے بندوں کے دل میں ان کی محبت ڈال دے گا۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالی کسی بندے کو محبوب کرتا ہے توجبریل سے فرماتا ہے کہ فلانا میرا محبوب ہے ، جبریل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر حضرت جبریل آسمانوں میں ندا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی فلاںکو محبوب رکھتا ہے سب اس کو محبوب رکھیں تو آسمان والے اس کو محبوب رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت عام کردی جاتی ہے۔
 مسئلہ : ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومنین، صالحین واولیائے کاملین کی مقبولیت عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے۔ جیسے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور حضرت سلطان نظام الدین دہلوی اور حضرت سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رضی اللہ عنہم اور دیگر حضرات اولیائے کاملین کی عام مقبولیتیں ان کی محبوبیت کی دلیل ہیں۔ ‘‘
 جب آپ درس و تدریس سے فرصت پاتے تو طریقت کے ذریعہ دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں لگ جاتے ۔ آپ کے دست حق پرست پر جوبھی بیعت ہوتا اسے نماز روزہ اور داڑھی رکھنے اور حرام وناجائز چیزوں سے دور رہنے کی ضرور تلقین کرتے۔ نیز گاہے بگاہے اپنے مریدین و متوسلین کو شریعت کی پابندی کرنے کی نصیحت کرتے رہتے۔
 یہ چند سطور بعجلت آپ کی بارگاہ خراج عقیدت کے طور پر نذرکئے ’’گر قبول افتد زہے عزوشرف‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب لبیب کے صدقہ و طفیل انکے مرقد پر باران رحمت کا نزول فرمائے ، اوران کے فیضان کو ہم پر جاری وساری فرمائے۔
  



..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg