Instagram

تشطیراتِ بخشش







تشطیراتِ بخشش


ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
(ایم۔اے، پی۔ایچ۔ڈی، یوجی سینیٹ)


فہرست






انتساب


            عہدِ رواں کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز نعت گو شاعر پرتوِ کلامِ رضا
            شہزادۂ  خاندانِ برکات حسان العصرسید آلِ رسول حسنین میاں
            نظمی ؔ مارہروی
            کی علمی، ادبی اور شعری خدمات کے نام
            کہ جن کے نعتیہ کلام کی دھومیں آج اکنافِ عالم میں مچی ہوئی ہیں۔

                                                            محمد حسین مُشاہد رضوی






بسم اللہ الرحمن الرحیم
الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سرنوشت

           
            صنائع و بدائع شاعری کے حُسن و زیور ہیں۔جس سے کلام میں جان اور لطف پیدا ہوتا ہے۔اس کے بغیر شاعری جسدِ بے روٗح معلوم ہوتی ہے۔مگر اس کے استعمال میں بڑے ہی قرینے اور سلیقے کی ضرورت ہے۔اعتدال شرطِ اوّلین ہے۔
            اردوٗ کے شعرا نے جہاں ایک طرف شاعری سے اپنی شناخت قائم کیں وہیں دوسری طرف انھوں نے اردوٗ شاعری کو وہ بلندیاں اور رفعتیں بخشی ہیں کہ جن کی وجہ سے آج اردوٗ ہر لحاظ سے ایک مکمل اور پُختہ زبان ہونے کا فخر حاصل کر چکی ہے۔شاعری ایک تخلیقی فن ہے۔ادبی صنعتیں اس میں حُسن پیدا کرتی ہیں۔اس لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اردوٗ زبان کی جملہ صفات میں ایک اہم اور نمایاں خوبی اس کی ’’صنعتی شاعری‘‘ ہے۔اردو میں یہ صنف دوسری اصناف کی طرح عربی و فارسی زبانوں سے آئی ہے۔
            حضرت مولوی نجم الغنی رام پوری نے اپنی تصنیف ’’بحرالفصاحت‘‘ میں ستّاون صنائعِ لفظی اور چوّن صنائعِ معنوی یعنی کُل ایک سو گیارہ صنعتیں شمار کی ہیں۔عصرِ جدید کے شعرا اِن صنعتوں کا استعمال شاذ و نادر ہی کر رہے ہیں۔راقم نے ۲۰۰۵ء میں ’’اردوٗ کی دل چسپ اور غیر معروٗف صنعتیں ‘‘ نامی ایک رسالہ مرتب کر کے شائع کیا تھا۔جسے اہل علم نے کافی سراہا، مذکورہ رسالہ میں اردو کی غیر معروٗف بل کہ ناپید اور متروک صنعتوں سے کُل چالیس صنعتیں مع تمثیلات و توضیحات پیش کی گئی تھیں۔
            پیشِ نظر رسالہ’’تشطیٖراتِ بخشش ‘‘ایک ایسی ہی غیر معروٗف صنعت ’’صنعتِ تشطیٖر‘‘ پر مشتمل ہے۔’’تشطیٖر‘‘ کے لغوی معنی ’چیرنا‘ ہے۔اصطلاحِ ادب میں جب شاعر کسی شعر کے دو مصرعوں کے بیچ میں موضوع سے ہم آہنگ مزید دو تضمینی مصرعوں کا اضافہ کرتا ہے تو اُس صنعت کو ’’صنعتِ تشطیٖر‘‘ کہتے ہیں۔مثلاً :
’’اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے‘‘
دوٗر دامن فکر کا از دست ہے
کام تیرا عام ہوہی جائے گا
’’دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا‘‘
مذکورہ بالا مثال میں اعلا حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی کے مشہوٗر و معروٗف شعر   ؎
’’اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا‘‘
کے دونوں مصرعوں کے درمیان دو تضمینی مصرعوں کا اضافہ کر کے ’’تشطیٖر‘‘ کا عمل کیا گیا ہے۔
            پیشِ نظررسالہ’’تشطیٖراتِ بخشش‘‘ میں راقم نے حسان الہند امام احمد رضا محدثِ بریلوی، اُن کے صاحب زادے مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی قدس سرہما اور اپنے مرشدِ گرامی جانشیٖنِ مفتیِ اعظم حضور علامہ مفتی محمد اختر رضا قادری ازہری میاں دام ظلہٗ العالی کے چالیس چالیس اشعار پر ’’صنعتِ تشطیٖر‘‘ کا عمل کرنے کی طالب علمانہ کوشش کی ہے۔اہلِ نقد و نظر سے التماس ہے کہ خامیوں کی نشان دہی فرما کر حوصلہ افزائی کریں۔
            اس رسالہ کی اشاعت و طباعت میں جن حضرات نے تعاون فرمایا راقم ان کا ممنون و متشکر ہے۔بالخصوص حضرت مفتی محمد توفیق احسنؔ برکاتی (ممبئی) کا میں بے حد شکر گزار ہوں  جنھوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر اس رسالہ پر نظرِ ثانی فرماتے ہوئے گراں قدر تاثر بھی قلم بند فرمایا۔موصوف جواں سال محقق و ادیب،شاعر اور عالم و مفتی ہیں نیز کئی کتابوں کے مصنف و مترجم بھی ہیں۔دعا ہے کہ رب عزوجل ہم سب کو حوادثِ روزگار سے محفوظ و مامون رکھے۔(آمین بجاہٖ الحبیب الامین صلی اللہ علیہ وسلم)۔
                                                محمد حسین مُشاہدؔ رضوی،مالیگاوں
                                                ۲۵؍ نومبر۲۰۱۰ء بروز پیر

           

عہدِ نَو کا سب رنگ شاعر۔۔ مُشاہدؔ رضوی


توفیق احسنؔ مصباحی،ممبئی


            محترم ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی مالیگانوی نسلِ نو سے تعلق رکھنے والے تازہ کار شاعر ہیں۔جن کی تقدیسی شاعری بھی محض کلاسیکی نہیں کہی جا سکتی،بل کہ نُدرتِ فکر کے ساتھ اظہارِ خیال اور ترسیلِ معانی کا جو اچھوتا پن ان کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے وہ مُشاہدؔ رضوی کے شعری امتیاز کو مستحکم کرتا نظر آتا ہے۔اس لیے یہ بالکل ممکن ہے کہ شاعری جدید بھی ہو اور کلاسیکی اصولوں کی پابندی بھی کرے۔موجودہ دور کا شعری منظر نامہ غزل اور نظم سے بوجھل نظر آتا ہے،اس وقت ادبی دنیا میں بڑا شاعر وہ مانا جاتا ہے جو غزل اور صنفِ نظم میں آزاد یا پابند ہو کر اپنے شعر ی سرمایے میں اضافہ کرتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر روٗ نما ہونے والے نیرنگِ زمانہ حالات، حادثات و واقعات اور فلموں و ٹی۔وی سیریلوں میں پیش کی جانے والی عشق و محبت کی داستانوں کو شعری قالب میں ڈھال کر وقت کا مانا جانا لب و لہجہ اور عمدہ اظہارِ محبت کا پختہ گو شاعر کہلانا پسند کرتا ہے۔  اس کی غزلوں اور نظموں کے مجموعے سال بہ سال شائع ہوتے ہیں اور چنیدہ نقّاد بھی اس کے شعری امتیاز کی کھل کر داد دیتے ہیں، اسے ایوارڈز و اعزازات بھی ملتے ہیں، اس کے نام ’’شامِ غزل‘‘ منائی جاتی ہے، سیمینار منعقد ہوتے ہیں اور اس کا شعری و ادبی خطبہ مقالات کی شکل میں پیش ہو کر کتابی صورت میں ’’شخصیت و شاعری‘‘ کے نام سے شائع ہو کر دوبارہ کسی ناقد کے پاس مقالہ نگاروں کے تنقید ی رویّے پر تنقید کرنے کے لیے پہونچ جاتے ہیں۔
            ممتاز شاعر و ادیب جناب زبیر رضوی نے ایک جگہ لکھا ہے:
            ’’موجودہ ادبی منظر نامہ دراصل ان لوگوں کی تگ و دو اور چہل پہل کا منظر نامہ ہے جو اپنی ادبی حیثیت کو پھلتا پھولتا اور خود کو پھولوں کا ہار اور گجرا پہنے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں ۔‘‘(روزنامہ انقلاب،ممبئی ۲؍اگست ۲۰۰۹ء اتوار)
            محترم زبیر رضوی صاحب کی باتوں میں یقینی طور پر صداقت ہے جسے قطعاً جھٹلایا اور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، آج یقیناً ایسا ہو رہا ہے اور ’’ ادبی دہشت گردی‘‘ پورے عروج پر ہے۔اس سلسلے میں معروف شاعر و نثر نگار سید شکیل دسنوی نے محترم سعید رحمانی کے ادبی جریدے ’’ادبی محاذ کٹک اڑیسہ‘‘ شمارہ اپریل تا جون ۲۰۱۰ء میں ایک اداریہ بہ عنوان ’’ادبی دہشت گردی ‘‘تحریر کیا ہے جو انتہائی چشم کشا اور حقائق کا برملا اور دو ٹوک اعتراف و اظہار ہے۔
            ایک بات اور عرض کر دوں کہ زندگی کے قریب تمام شعبوں میں گروہ بندی نے طوفان برپا کر رکھا ہے جس کی وجہ سے ان شعبوں کی تمام تر رونقیں مائل بہ زوال ہیں۔ادب اور فن بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہا،ترقی پسندتحریک،جدیدیت،مابعد جدیدیت کا نہ تو میں یک سر مخالف ہوں نہ بالکل موافق،البتہ اس کی آڑ میں ہونے والے غیر ادبی کام اور اس کی جِلو میں فروغ پا نے والے غیر ادبی رجحانات نے ادب کو کا فی نقصان پہنچایا ہے۔میں ان تحریکوں اور نظریوں کے ذریعہ ہونے والے فوائد و منافع کا انکار نہیں کر رہا ہوں، گروہ بندی نے اردو زبان و ادب کی ارتقائی راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔جس نے اردو کے قارئین کو بھی بد ظن اور متنفر کر دیا ہے آج شاعر ہویا نثر نگار،تنقید نگار ہویا افسانہ نگار ہر کسی کو اپنا قاری خود تلاش کرنا پڑ رہا ہے۔
            شعری اصناف میں غزل، نظم، قطعہ، رباعی، مرثیہ وغیرہا کو نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے۔ ہر جدید شاعر اِن اصناف میں طبع آزمائی کرنا چاہتا ہے اور ہر ناقد اُن پر تنقیدی نگاہ ڈالنا اپنا حق سمجھتا ہے۔ایک زمانہ تھا جب حمد و نعت کو کوئی صنفِ ادب ماننے کو تیار نہ تھا، لیکن آہستہ آہستہ اس رجحان میں کمی آئی، نظریہ بدلا اور اب نعت کو بھی ایک مخصوص صنف ِ سخن تسلیم کر لیا گیا ہے۔یہ بڑی خوش آیند بات ہے۔اب کسی شاعر کا کوئی غزلیہ یا نظمیہ مجموعہ منظرِ عام پر آتا ہے تو ایک دو حمد و نعت بھی بہ طورِ تبرک ابتدا ے کتاب میں شامل رہتی ہے۔
            اس وقت میں جس شاعر کے متعلق اظہارِ خیال کر رہا ہوں وہ خالص نعت و حمد و نظم کے شاعر ہیں۔اصنافِ ادب سے انھیں پوری آگاہی ہے، عروض و قوافی کا گیان بھی انھیں حاصل ہے۔ انھوں نے نعت نگاری سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا اور اب تک مسلسل نعتیہ شاعری قلم بند کر رہے ہیں۔ادبی دنیا میں ان کا نام کیوں نہیں ؟ اس لیے کہ وہ غزل کے شاعر نہیں ہیں۔
            مُشاہدؔ رضوی ایک مذہبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں۔عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اظہار و فروغ جس کا وطیرہ رہا ہے۔اس لیے مذہبیات کے شبنمی قطرے ان کی شعری کائنات پر چھائے ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنی شاعری خالص اسلامی طرز و ادا کے ساتھ شروع کی اور اب تک شاعری کا تقدس پامال نہیں ہونے دیا۔ڈاکٹر سید یحییٰ نشیطؔ رکن مجلسِ ادارت بال بھارتی، پونے کے بہ قول:
                        ’’لمعاتِ بخشش کا شاعر محمد حسین مُشاہد ؔ رضوی نو عمر و نوجوان ہے۔  بچپن سے ان کا قلم عشقِ رسولﷺ  کے اظہار کے لیے صفحۂ  قرطاس پر نعتوں کے موتی بکھیر رہا ہے۔انھوں نے تقدیسی شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے اور بعض عمدہ اشعار ان اصناف کے تخلیق کیے ہیں۔‘‘
(ڈاکٹر سید یحییٰ نشیط صاحب سے معذرت کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اللہ عزوجل کے علاوہ کسی انسان کے کام کو نہ تو تخلیق کہا جا سکتا ہے اور نہ اسے خالق سے موصوف مانا جا سکتا ہے نہ اس کی کاوشات کو تخلیقات نام دیا جا سکتا ہے۔)
            مُشاہدؔ رضوی نے آنکھیں کھولتے ہی جو ماحول پایا وہ خالص اسلامی ماحول تھا۔جہاں نعتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مدھر بھرے نغمات ان کے کانوں میں رس گھولتے نظر آتے تھے۔نعتیہ مجالس میں انھیں شرکت کا موقع ملتا، مشاہیر نعت گو شعرا کی نعتیں سننے کا اتفاق ہوتا، اور یوں انھیں خود نعت کہنے کا ذوق بیدار ہوا، اور وہ نعتیہ اشعار موزوں کرنے لگے۔ گو یا ان کی شاعری کی ابتدا نعت ہے اور اب تک اسی ابتدا کی شاہ راہ میں اپنی فکر و خیال کا جادو جگا رہے ہیں اور بے طرح کامیاب ہیں۔محترم مُشاہدؔ رضوی نے اپنے شعری سفر کے آغاز کے متعلق خود اظہار ِ خیال فرمایا ہے :
            ’’مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں جماعت دہم میں زیرِ تعلیم تھا تب اعلا حضرت امام احمد رضا کی مشہورِ زمانہ نعت    ؎
زہے عزت و اعتلائے محمد (ﷺ)
کہ ہے عرشِ حق زیرِ پائے محمد(ﷺ)
                کی زمین میں پہلی نعت قلم بند کی۔ ‘‘(سرنوشت،لمعاتِ بخشش ص۱۱)
            مُشاہد ؔ رضوی کی شاعری میں امام احمد رضا کا شعری فیضان جگہ جگہ نمایاں نظر آتا ہے۔  انھوں نے اس حقیقت کا کھلے دل سے اعتراف بھی کیا ہے،اپنی پہلی نعت میں لکھتے ہیں    ؎
رضا کے کرم سے بنی نعتِ اوّل
جو اوّل رقم کی ثنائے محمد(ﷺ)
            مُشاہدؔ رضوی نے ۲۰۰۹ء میں اپنا کل شعری سرمایہ اکٹھا کر کے ایک دیوان کی شکل میں قارئین اور ناقدینِ ادب کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کی اور اس میں پوری طرح کامیاب رہے۔ یوں تو شعری مجموعے ہر روز شائع ہو رہے ہیں، غزلیہ، حمدیہ، نظمیہ، رباعیہ، ہزلیہ وغیرہا ، لیکن باقاعدگی کے ساتھ دیوان کی شکل میں حروف ہجائیہ کی ترتیب کے ساتھ شاید و باید کوئی مجموعہ منظرِ عام پر آتا ہے اور وہ بھی خالص نعتیہ شاعری کا دیوان تو بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔
            گذشتہ سال محترم سید اولادِ رسول قدسی ؔ کے تین شعری مجموعے ایک ساتھ شائع ہوئے اور تینوں دیوان کی شکل میں ، ایک نعتیہ، دوسرا غزلیہ، تیسرا نظمیہ… اس سے قبل ۲۰۰۸ء میں بزرگ شاعر و نقّاد محترم ڈاکٹر صابر سنبھلی مرادآبادی نے اپنا نعتیہ دیوان حروفِ ہجائی کی ترتیب کا لحاظ کرتے ہوئے ۱۴۴؍ صفحات میں شائع کیا تھا۔
            مُشاہدؔ رضوی نے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کل سرمایہ دیوان کی شکل میں ۲۴۰؍ صفحات پر مشتمل مجلد ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کے نام سے شائع کرایا تھا۔جس کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی،اخبارات میں اس کتاب پر تنقیدی و تجزیاتی مضامین نظروں سے گذرے اور بڑوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی، جو ان کے لیے بڑے اعزاز و انعام کی بات ہے۔
            اس سے قبل مُشاہد ؔ رضوی نے ۲۰۰۵ء میں ’’اردو کی دل چسپ اور غیر معروٗف صنعتیں ‘‘ کے نام سے چالیس نادر و نایاب صنعتوں پر مشتمل ایک کتاب اہلِ علم کی خدمت میں پیش کی تھی جس کے متعلق محترم غلام مصطفی اثرؔ صدیقی کا لکھنا ہے کہ :
’’یقیناً محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کی یہ کاوش اردو طلبا و طالبات کے لئے ایک اور ’فرہنگِ ادبیات‘ سے کم نہیں۔‘‘
            مُشاہد  ؔ رضوی کا سنہ ولادت دسمبر ۱۹۷۹ء ہے،جائے پیدایش شہر مالیگاوں ہے،تعلیمی لیاقت ایم۔اے،ڈی۔ ایڈ،یو جی سی نیٹ ہے اور ابھی حال ہی میں انھوں نے اپنا مقا لۂ ڈاکٹریٹ بہ عنوان ’’مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کی نعتیہ شاعری کا تحقیقی مطالعہ ‘‘چار سو سے زائد صفحات کو محیط مراٹھواڑہ یونی ورسٹی، اور نگ آباد میں جمع کر دیا ہے۔اللہ عزوجل انھیں امتیازی نمبروں سے کامیابی عطا فرمائے،آمین۔
            موصوف کو بارہویں جماعت اور بی۔ اے میں اردو مضمون میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرنے پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کی طرف سے اعزاز بھی دیا گیا، ۲۰۰۲ء سے تا حال ضلع پریشد اردو پرائمری اسکول، نیاے ڈونگری، تعلقہ ناند گاوں ضلع ناشک میں تدریسی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور ان کا اشہبِ قلم بھی پوری تن دہی کے ساتھ رواں دواں ہے۔رسائل و جرائد میں ان کے علمی و تحقیقی مضامین اور نعتیہ شاعری مطالعہ میں آتے ہے۔ممبئی و مالیگاؤں کے اردو اخبارات میں بھی ان کے مقالات تواتر کے ساتھ شائع ہوتے ہیں۔اس وقت مُشاہدؔ رضوی نے اپنی ایک بالکل نئی کتاب ’’تشطیٖراتِ بخشش‘‘ کا مسودہ میرے مطالعہ کی میز پر سجایا ہے اور اب میں اسی کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔بہ قول معروف فکشن نگار شاعر و ادیب سید محمد اشرف مارہروی :
            ’’فنِ نعت کسبی نہیں،وہبی ہے،یہ صرف عطائے الٰہی سے حاصل ہوتا ہے۔ البتہ تکنیکی نوک پلک درست کرنے کے لیے مشق اور مطالعہ ضروری ہوتا ہے۔‘‘
            مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ اللہ عزوجل نے ان کے عشقِ رسولﷺ، فنِ نعت سے والہانہ وابستگی اور سچے نعت گو شعرا سے بے پناہ وارفتگی کی وجہ سے انھیں نعت گو شاعر بنا دیا ہے اور انھوں نے عطائے الٰہی کا سہارا لے کر اپنا قلم خالص نعتیہ شاعری کے لیے وقف کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں     ؎
ہیں یوں تو اور بھی اصنافِ شاعری لیکن
کسی کا رُتبہ نہیں نعتِ مصطفی کی طرح
     اقبالؔ ، ذوقؔ ، امیرؔ مینائی، محسنؔ کاکوروی، حفیظؔ جالندھری، احمد رضا بریلوی، استاذِزمن حسن رضا بریلوی، نوریؔ بریلوی، اختر رضا ازہری، نظمی مارہروی، اجملؔ سلطانپوری، بیکلؔ اتساہی وغیرہا مشہورِ زمانہ نعت گو شعرا کی شاعری کا مطالعہ انھوں نے کیا، جس کی گہری چھاپ ان کی شاعری میں دکھائی دیتی ہے۔لیکن ان سب کے باوجود انھوں نے امامِ نعت گویاں احمد رضا بریلوی کو اپنا استاذ ِ شعر مانا اور ان کے حُسنِ تخیل کی چمک کو اپنا راہ نما… لکھتے ہیں    ؎
رضا کا حُسنِ تخیل ہے رہِ نما میرا
کہ نعت گو نہیں کوئی مرے رضا کی طرح
            مُشاہدؔ رضوی کی ایک حمد میں نے کسی اخبار میں پڑھی تھی اس کا مطلع آج بھی ذہن و فکر میں گھومتا نظر آتا ہے    ؎
بطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تو ہی
صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تو ہی
            واہ! کیا کہنے،کتنا اچھا مضمون باندھا ہے۔سید محمد اشرف مارہروی نے ۲۰۰۰ء میں مُشاہدؔ رضوی کو لکھا تھا  :
            ’’مجھے دلی خوشی ہوئی کہ ۲۱؍ برس کا نوجوان اتنی اچھی اردو اتنی صحیح نثر اور ایسی پیاری نعتیہ شاعری لکھنے پر قادر ہے۔‘‘…
            اس لیے مجھے مُشاہدؔ رضوی کے تعلق سے مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے، اور زیرِ نظر کتاب ’’تشطیراتِ بخشش‘‘ نے مجھے مسحور کر رکھا ہے۔کیا لکھوں، کیا نہ لکھوں ؟ … مُشاہدؔ رضوی نے بجا تحریر کیا ہے: ’’ صنائع و بدائع شاعری کے حُسن و زیور ہیں۔‘‘ اسی لیے انھوں نے اس حُسن و زیور سے اپنی شاعری کو سجانے کی کوشش کی ہے۔یہ کتاب صنائعِ شاعری کی ایک نمایاں صنعت ’’تشطیر‘‘ پر مشتمل شعری گل دستہ ہے۔موصوف کے الفاظ میں ’’اصطلاحِ ادب میں جب شاعر کسی شعر کے دو مصرعوں کے بیچ میں موضوع سے ہم آہنگ مزید دو تضمینی مصرعوں کا اضافہ کرتا ہے تو اُس صنعت کو ’’صنعتِ تشطیٖر‘‘ کہتے ہیں۔‘‘
            امام احمد رضا بریلوی، مصطفی رضا نوریؔ بریلوی اور اختر رضا ازہری بریلوی کے چالیس چالیس اشعار میں اس صنعت کا استعمال بڑی مہارت اور سلیقہ مندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔جن کے اندر خیالات کی ندرت، جذبے کا تقدس، افکار کی بلندی اور شعریت کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔  ہم وزن، ہم قافیہ، ہم رنگ اور ہم مضمون خیال کو ایک ساتھ برتنا کتنا مشکل کام ہے یہ مُشاہدؔ رضوی ہی جان سکتے ہیں۔ کسی زمین پر کوئی شعر کہہ دینا اتنا دِقّت طلب نہیں جتنا کسی مخصوص وزن و قافیہ کی رعایت کے ساتھ موضوع و خیال کی ہم آہنگی کا التزام کرتے ہوئے کوئی شعر قلم بند کرنا ہے اور مُشاہدؔ رضوی نے اس مشکل ترین سفر کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا ہے     ؎

’’تیری نسلِ پاک میں ہے بچّہ بچّہ نوٗر کا‘‘
تیرے صدقے پا لیا سب نے خزینہ نوٗر کا
ہر گلِ تر نوٗر کا ہر ذرّہ ذرّہ نوٗر کا
’’تو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانا نوٗر کا‘‘

            آج کسی شاعر یا ادیب کی شعری و ادبی نگارشات کو وزن دار بنا نے کے لیے سکّہ بند ناقدین کی آرا سے کام لیا جاتا ہے، میں مُشاہدؔ رضوی کے شعری امتیاز کے اس خاص پہلو کو نمایاں کر کے دیکھنے کے لیے ان کے نعتیہ اشعار کے مطالعہ کی دعوت پیش کرتا ہوں اور بس، … ان کے اشعار خود گواہی دیں گے ،… انھیں کسی ناقد کی شہادت کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔
            مُشاہد ؔ رضوی کی یہ کتاب اگرچہ بہت مختصر ہے لیکن موٹی موٹی کتابوں پر بھاری ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کا بھر پور مطالعہ کیا جائے، بالخصوص ناقدینِ ادب سے ضرور گزارش کروں گا کہ وہ اپنا روئے تنقید نعتیہ شاعری کی طرف بھی موڑنے کی زحمت گوارا کریں۔ یہ بھی زبان و ادب کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔ مُشاہدؔ رضوی ایک کامیاب نثر نگار، مایۂ  ناز محقق، قادر الکلام شاعر ہیں بل کہ میں تو انھیں عہدِ نَو کا سب رنگ شاعر مانتا ہوں۔امید ہے کہ ادبی حلقوں میں یہ کتاب پذیرائی کی مستحق ہو گی۔
                                    توفیق احسنؔ ،ممبئی(۸؍ اکتوبر۲۰۱۰ء شب شنبہ)


           

حسان الہند اعلا حضرت اما م احمد رضا بریلوی کے اشعارِ آب دار پر تشطیٖرات



٭
’’واہ کیا جوٗد و کرم ہے شہِ بطحا تیرا‘‘
کون ہے جس نے نہ پایا کبھی، صدقا تیرا
سارے داتاؤں میں ہے طَور نرالا تیرا
’’نہیں‘‘ سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا‘‘
٭

’’تیری سرکار میں لاتا ہے رضاؔ اُس کو شفیع‘‘
سارے ولیوں میں ہوا مرتبہ ہاں ! جس کا رفیع
پرتوِ پاک ترا، عاشق و شیدا تیرا
’’جو مرا غوث ہے اور لاڈلا بیٹا تیرا‘‘
٭
’’فخرِ آقا میں رضاؔ اور بھی اک نظمِ رفیع‘‘
پیشِ رب تیری جو بن جائے گی لاریب! شفیع
یوں تو عالم میں ہے مشہور ترانا تیرا
’’چل لکھا لائیں ثنا خوانوں میں چہرا تیرا‘‘
٭

٭
’’ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی‘‘
اِس خاک کی اُس خاک میں ہو کاش سمائی
جس خاک میں مدفوں شہِ والا ہے ہمارا
’’آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا‘‘
٭

٭
’’اتنی رحمت رضاؔ پہ کر لو‘‘
چشمِ عنایت گدا پہ کر لو
آپ مرے ’’اعتبار‘‘ آقا
’’لا یقربہ البوار آقا‘‘
٭

٭
’’اے رضاؔ ہر کام کا اک وقت ہے‘‘
دوٗر دامن فکر کا از دست ہے
کام تیرا عام ہوہی جائے گا
’’دل کو بھی آرام ہوہی جائے گا‘‘
٭

٭
’’کروں مدح اہلِ دُوَل رضاؔ ، پڑے اس بلا میں مری بلا‘‘
ہے یہ میری زیست کا مدعا، کہ ہو لب پہ نغمۂ  مصطفا
جو ہر اک کی کرتا پھرے ثنا، مرے منہ میں ایسی زباں نہیں
’’میں گدا ہوں اپنے کریم کا، مرا دین پارۂ  ناں نہیں ‘‘
٭

٭
’’گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
لہلہا اُٹّھے ہیں جن سے سنیت کے گلستاں
وجد میں مصروٗف ہر سوٗ لالہ و گل زار ہے
’’کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے‘‘
٭

٭
’’لے رضاؔ سب چلے مدینے کو ‘‘
بادۂ  نابِ عشق پینے کو
ہے وہ محروٗم جو کہا نہ کرے
’’میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے‘‘
٭


٭
’’ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘
ہاں ! تری چشمِ عنایت و شفاعت سے شہا
نہ ہو حیران سرِ حشر وہ شیدا ہو کر
’’کیوں ہو زندانیِ دوزخ ترا بندا ہو کر‘‘
٭

٭
’’اے رضاؔ جانِ عنادل ترے نغموں کے نثار‘‘
وجد میں ہیں گل و لالہ و چمن زار و بہار
مدح گوئے شہِ والا ترا کہنا کیا ہے
’’بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے‘‘
٭


٭
’’غور سے سُن تو رضاؔ کعبہ سے آتی ہے صدا‘‘
حجِّ مبروٗر کا اب ہو گیا ارماں پورا
جاؤ تسکیٖں دِہِ دل گنبدِ خضرا دیکھو
’’میری آنکھوں سے میرے پیارے کا روضہ دیکھو‘‘
٭

٭
’’اے رضاؔ طوفانِ محشر کے تلاطم سے نہ ڈر‘‘
رنج و غم، آلامِ دوراں کی تمازت سے نہ ڈر
بن کے رحمت سر پہ ہوں گی سایہ گُسترایڑیاں
’’شاد ہو ہیں کشتیِ اُمّت کو لنگر ایڑیاں ‘‘
٭


٭
’’رضائےؔ خستہ جوشِ بحرِ عصیاں سے نہ گھبرانا‘‘
بروزِ حشر رنج و غم کے طوفاں سے نہ گھبرانا
ہے زیبا تاج شاہِ دیں کو اُمّت کی شفاعت کا
’’کبھی تو ہاتھ آ جائے گا دامن اُن کی رحمت کا‘‘
٭

٭
’’انا اعطینٰک الکوثر‘‘
ان کا اجارا ہر اک شَے پر
مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں
’’ساری کثرت پاتے یہ ہیں ‘‘
٭


٭
’’ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا‘‘
جام ہمیں دیں گے کوثر کا
تشنہ لب کو ہنساتے یہ ہیں
’’پیتے ہم ہیں پلاتے یہ ہیں ‘‘
٭

٭
’’سائلو! دامن سخی کا تھام لو‘‘
مانگنا ہے جو بھی اُن سے مانگ لو
فضلِ آقا عام ہوہی جائے گا
’’کچھ نہ کچھ انعام ہوہی جائے گا‘‘
٭


٭
’’جان ہے عشقِ مصطفا، روز فزوں کرے خدا‘‘
لب پہ ہو ہر صبح و مسا، نغمۂ  نعت ہی سجا
ہیں دردِ دل کی جو دوا، دل اُن کو بھول پائے کیوں
’’جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اُٹھائے کیوں ‘‘
٭

٭
’’کلکِ رضاؔ ہے خنجرِ خوں خوار برق بار‘‘
اہلِ دغا کے سینے میں بن جائے جس سے غار
اہلِ وفا یہ وِرد سدا بے خطر کریں
’’اعدا سے کہہ دو خیر منائیں نہ شر کریں ‘‘
٭


٭
’’رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا‘‘
قسم رب کی دشمن سے نہ رُک سکے گا
مٹیں گے سبھی کینہ پھیلا نے والے
’’پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے‘‘
٭

٭
’’برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت‘‘
ہیں ہم بھی شہِ دیں طلب گارِ برکت
بلائیں ہمیں کہہ کے او جانے والے
’’بدوں پر بھی برسا دے برسا نے والے‘‘
٭


٭
’’عرش پر دھومیں مچیٖں وہ مومنِ صالح ملا‘‘
رتبہ دیکھو شاہِ انس و جان کے مدّاح کا
چھوڑ کر جب دوستو! وہ معمورۂ  ظاہر گیا
’’عرش سے ماتم اُٹھے وہ طیّب و طاہر گیا‘‘
٭

٭
’’عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش پہ طُرفہ دھوم دھام‘‘
کونین میں ہے چار سوٗ تیرا ہی ذکر صبح و شام
واصف ترا مرے نبی، خلّاقِ دو جہان ہے
’’کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے‘‘
٭


٭
’’خاک ہو جائیں عدوٗ جل کر مگر ہم تو رضاؔ ‘‘
اُن کی عظمت کے ترا نے گائیں گے صبح و مسا
جشنِ میٖلاد النبی یوں ہی مناتے جائیں گے
’’دم میں جب تک دم ہے ذکر اُن کا سناتے جائیں گے‘‘
٭

٭
’’ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہِ خدا‘‘
مکینِ خلد وہ ہو گا، جو اِن کے در پہ مِٹا
جو راہِ حق کے یہ روشن چراغ لے کے چلے
’’وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے‘‘
٭


٭
’’چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدہ کریں ‘‘
سوٗرج اُلٹے پاوں پلٹے، ٹوٹی ہڈی بھی جڑیں
سر سے پا تک معجزہ ذاتِ شہِ ابرار ہے
’’بارک اللہ مرجعِ عالم یہی سرکار ہے‘‘
٭

٭
’’جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے‘‘
اُن کے احسان سے طیبہ کو سفینے پہنچے
جسم ہے ہند میں طیبہ کو دل و جان گیا
’’تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا‘‘
٭


٭
’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘
تبسم ایسا کہ ہنس دیں روتے، تکلم ایسا فصیح ہوں گونگے
نبیِ رحمت کا حُسنِ نمکیں، کہاں شمار و حساب میں ہے
’’گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے‘‘
٭

٭
’’اشارے سے چاند چیر دیا، چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا‘‘
درختوں سے اقرار کروا لیا،پہاڑوں نے صلِّ علا پڑھ لیا
علی کی ’’قضا‘‘ کو ادا کر دیا، یہ رفعتِ شاں تمہارے لیے
’’گئے ہوئے دن کو عصر کیا یہ تاب و تواں تمہارے لیے‘‘
٭



٭
’’قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نوٗر کے‘‘
ظلمتِ مرقد میں روشن ہوں گے بُقعے نوٗر کے
زیرِ لب جاری رہے مدحت رسول اللہ کی
’’جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رسول اللہ کی‘‘
٭

٭
’’لا وربِّ العرش جس کو جو مِلا اُن سے مِلا‘‘
نعمتوں کے با خدا قاسم ہیں پیارے مصطفا
ہے ہر اک انسان کو حاجت رسول اللہ کی
’’بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی‘‘
٭



٭
’’شرک ٹھہرے جس میں تعظیمِ حبیب‘‘
جو نہ رکھّے دل میں تکریمِ حبیب
اُس سے اے لوگو! عداوت کیجیے
’’اُس بُرے مذہب پہ لعنت کیجیے ‘‘
٭

٭
’’سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے‘‘
دوٗر نقصان و زیاں شاہِ اُمم ہو جائے
کشتِ بے نخل کی قسمت کو سنوارے گیسوٗ
’’چھائیں رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسوٗ‘‘
٭


٭
’’میرے ہر زخمِ جگر سے یہ نکلتی ہے صدا‘‘
تیری اُلفت کی چبھن میں ہے ملی غم کی دوا
اپنا غم دے دے مرے سرورِ خوباں ہم کو
’’اے ملیحِ عَرَبی کر دے نمک داں ہم کو‘‘
٭

٭
’’تیری نسلِ پاک میں ہے بچّہ بچّہ نوٗر کا‘‘
تیرے صدقے پا لیا سب نے خزیٖنہ نوٗر کا
ہر گلِ تر نوٗر کا ہر ذرّہ ذرّہ نوٗر کا
’’تُو ہے عینِ نوٗر تیرا سب گھرانا نوٗر کا‘‘
٭


٭
’’بائیں رستے نہ جا مسافر سُن‘‘
تجھ پہ طاری ہے یہ کہاں کی دُھن
دُزدِ ایماں ہزار پھرتے ہیں
’’مال ہے راہ مار پھرتے ہیں ‘‘
٭

٭
’’تاج والوں کا یہاں خاک پہ ماتھا دیکھا‘‘
اوٗنچے اوٗنچوں کو شہِ دین کا منگتا دیکھا
سن لو ہر ایک سے لاریب! ہے  بالائیِ دوست
’’سارے داراؤں کی دارا ہوئی دارئیِ دوست‘‘
٭


٭
’’با عطا تم، شاہ تم، مختار تم‘‘
مالکِ کوثر شہِ ابرار تم
بے عمل، بے آسرا سرکار ہم
’’بے نوا ہم، زار ہم، ناچار ہم‘‘
٭

٭
’’اُن دو کا صدقہ جن کو کہا پھول ہیں مرے‘‘
شبّابِ اہلِ خلد ہیں فرمانِ شاہ سے
شاداب جن سے دینِ مبیں کا جمالِ گل
’’کیجے رضاؔ کو حشر میں خندہ مثالِ گل‘‘
٭


٭
’’ملکِ سُخن کی شاہی تم کو رضاؔ مُسلّم‘‘
دُنیائے علم و فن میں ہے شان تیری محکم
عشقِ شہِ دَنا کے دریا بہا دئیے ہیں
’’جس سمت آ گئے ہو سکّے بٹھا دئیے ہیں ‘‘
٭٭٭




حضور مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کے اشعارِ آب دار پر تشطیٖرات

٭
’’بختِ خفتہ نے مجھے روضہ پہ جانے نہ دیا‘‘
حالِ دل شاہِ مدینہ کو سنا نے کو نہ دیا
جالیِ پاک کو آنکھوں میں بسا نے نہ دیا
’’چشم و دل سینے کلیجے سے لگا نے نہ دیا‘‘
٭

٭
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
اُسی کی طاری رہے جان و دل میں مخموٗری
ہو جس سے پیدا سروٗر و بہار آنکھوں میں
’’رہے ہمیشہ اُسی کا خمار آنکھوں میں ‘‘
٭



٭
’’تلاطم کیسا ہی کچھ ہو مگر اے ناخدائے من‘‘
وہ تھم جائے تصور سے آقا آپ کے فوراً
معاون خود ہماری تیز تر منجدھار ہو جائے
’’اشارا آپ فرما دیں تو بیڑا پار ہو جائے‘‘
٭

٭
’’تمہارے حکم کا باندھا ہوا سوٗرج پھرے اُلٹا‘‘
اشارے سے تمہارے چاند بھی ہو جائے دو ٹکڑا
کنواں میٹھا، جو چاہو تو شہِ ابرار ہو جائے
’’جو تم چاہو کہ شب دن ہو ابھی سرکار ہو جائے‘‘
٭


٭
’’تمہارا نوٗر ہی ساری ہے اُن ساری بہاروں میں ‘‘
گلوں میں، لالہ زاروں میں، چمن میں مرغ زاروں میں
یقیناً باعثِ تزئینِ گلِستاں بوستاں تم ہو
’’بہاروں میں نہاں تم ہو بہاروں سے عیاں تم ہو‘‘
٭

٭
’’ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمّت؟‘‘
جوانی کی عبادت ہے یقیناً باعثِ عزّت
مخاطب خود سے ہو کر کہتے ہیں سب کو، کہاں تم ہو؟
’’جو کچھ کرنا ہو اب کر لو ابھی نوریؔ جواں تم ہو‘‘
٭


٭
’’ثنا منظوٗر ہے اُن کی نہیں یہ مدعا نوریؔ ‘‘
نبی کے عشق و الفت کے ہو تم اک رہِ نما نوریؔ
کہ باغِ نعت کے اک بلبلِ شیریں بیاں تم ہو
’’سخن سنج و سخن ور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو‘‘
٭

٭
’’گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر‘‘
کرم فرمائیے شاہِ مدینہ ہم گداؤں پر
مداوائے غمِ دوراں شہِ خیر الورا تم ہو
’’کہ ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو‘‘
٭


٭
’’جلوۂ  حُسنِ جہاں تاب کا کیا حال کہوں ‘‘
حُسنِ والشمس کی کس چیز سے تشبیہ کروں
جُز خدا وصف میں انسان پریشاں ہو گا
’’آئینہ بھی تو تمہیں دیکھ کے حیراں ہو گا‘‘
٭

٭
’’میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھا نے جاؤں ‘‘
بجز تیرے صدقہ کہاں سے میں پاؤں
ترا نام آقا پکارا کروں میں
’’ترے در سے اپنا گذارا کروں میں ‘‘
٭


٭
’’خدا خیر سے لائے وہ دن بھی نوریؔ ‘‘
مدینے کی حاصل ہمیں ہو حضوری
دل و جان سب اُس پہ وارا کروں میں
’’مدینے کی گلیاں بُہارا کروں میں ‘‘
٭

٭
’’سرشار مجھے کر دے اک جامِ لبالب سے‘‘
الطاف و عنایت کا طالب ہوں شہا کب سے
جلووں سے چمک جائے اِس دل کا نہاں خانہ
’’تا حشر رہے ساقی آباد یہ مَے خانہ‘‘
٭


٭
’’میں تری رحمت کے قرباں اے مرے امن و اماں ‘‘
کُن نگاہے لطف و رافت سوے جملہ سُنّیاں
حال ابتر ہو رہا ہے آپ کے بیمار کا
’’کوئی بھی پُرساں نہیں ہے مجھ سے بد کردار کا‘‘
٭

٭
’’کُن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو‘‘
مالکِ کل کر دیا اللہ نے سرکار کو
ہے جلالِ بے نہایت آپ کے دربار کا
’’کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا‘‘
٭


٭
’’جاگ اُٹھّی سوئی قسمت اور چمک اُٹھّا نصیب‘‘
ہیں وہی لاریب! جن و انس کے حاذِق طبیب
پل میں رنج و غم مٹا، سب شاہ کے بیمار کا
’’جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا‘‘
٭

٭
’’ہے عام کرم اُن کا اپنے ہوں کہ ہوں اعدا‘‘
منکر کو بھی دیتے ہیں رحمت سے دُعا آقا
ہے کام شہِ دیں کا سب کو ہی عطا کرنا
’’آتا ہی نہیں گویا سرکار کو ’لا‘ کرنا‘‘
٭


٭
’’روز و شب مرقدِ اقدس کا جو نگراں ہو گا‘‘
وہ جو قسمت سے درِ پاک کا درباں ہو گا
ہاں ! وہی سب سے بڑا دہر میں شاداں ہو گا
’’اپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہو گا‘‘
٭

٭
’’قبر کا ہر ذرّہ اک خورشیدِ تاباں ہو ابھی ‘‘
ظلمتِ مرقد میں پھیلے روشنی ہی روشنی
تم جو ہو جلوا نما مہرِ عجم ماہِ عرب
’’رُخ سے پردا دو ہٹا مہرِ عجم ماہِ عرب‘‘
٭


٭
’’ہے تم سے عالم پُر ضیا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘
اے میرے حُسنِ والضحیٰ ماہِ عجم مہرِ عرب
ہے دل مرا ظلمت زدا ماہِ عجم مہرِ عرب
’’دے دو مرے دل کو جِلا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘
٭

٭
’’ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت‘‘
دوٗر اک پل میں ہوئی ظلم و ستم کی صورت
جب سے نظروں میں سمائی ہے حرم کی صورت
’’یاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت‘‘
٭


٭
’’اے سحابِ کرم اک بوٗند کرم کی پڑ جائے‘‘
سوکھی کھیتی میں جو شادابیاں لے کر آئے
دوٗر ہو جائے ہر اک رنج و الم کی صورت
’’صفحۂ  دل سے مرے محو ہو غم کی صورت‘‘
٭

٭
’’ماہِ طیبہ نیرِ بطحا صلی اللہ علیک وسلم‘‘
نوٗرِ قادرِ مطلق آقا صلی اللہ علیک وسلم
دوٗر ہوا سب تجھ سے اندھیرا صلی اللہ علیک وسلم
’’تیرے دم سے عالم چمکا صلی اللہ علیک وسلم‘‘
٭


٭
’’میرے آقا  میرے مولا، آپ سے سُن کر انی لہا‘‘
نفسی نفسی کا عالم تھا، درد و غم سب دوٗر ہوا
مژدہ سُن کر میرے شاہا  صلی اللہ علیک وسلم
’’دم میں ہے دم میرے آیا صلی اللہ علیک وسلم‘‘
٭

٭
’’سنو گے ’لا‘ نہ زبانِ کریم سے نوریؔ ‘‘
ملیں گی نعمتیں ساری، قسیٖم سے نوریؔ
یہی تو رب کے خزا نے لُٹا نے آئے ہیں
’’یہ فیض و جوٗد کے دریا بہا نے آئے ہیں ‘‘
٭


٭
’’نصیب تیرا چمک اُٹھا دیکھ تو نوریؔ ‘‘
مِلی ہے تُربتِ خاکی میں جا کے مسروٗری
وہ اپنا جلوۂ  آرا دکھا نے آئے ہیں
’’عرب کے چاند لحد کے سرہا نے آئے ہیں ‘‘
٭

٭
’’یہ آسمان کے تارے، یہ نرگسِ شہلا‘‘
گلاب و موگرا، جوہی، چنبیلی اور چمپا
ترے ہی دم سے ہے پھیلی بہار آنکھوں میں
’’ترا ہی جلوا ہے ان بے شمار آنکھوں میں ‘‘
٭


٭
’’نہ صرف آنکھیں ہی روشن ہوں دل بھی بینا ہو‘‘
بصر کے ساتھ بصیرت مری مجلّا ہو
قرار آئے مری بے قرار آنکھوں میں
’’اگر وہ آئیں کبھی ایک بار آنکھوں میں ‘‘
٭

٭
’دوٗر ساحل موج حائل پار بیڑا کیجیے‘‘
اک نگاہِ التفات اے میرے شاہا کیجیے
زور پر طوٗفان ہے کچھ آسرا ملتا نہیں
’’ناؤ ہے منجدھار میں اور ناخدا ملتا نہیں ‘‘
٭


٭
’’دونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اُسی سرکار کا‘‘
جس کو جو ملتا ہے وہ تو ہے اُسی دربار کا
بے وسیلہ مصطفا کے مدعا ملتا نہیں
’’خوٗد خدا سے پائے جو اُن کے سِوا ملتا نہیں ‘‘
٭

٭
’’پیاسو! مژدہ ہو کہ وہ ساقیِ کوثر آئے‘‘
لو مبارک ہو کہ اب شافعِ محشر آئے
جن سے ہر سمت سکوں، لوگو! بپا ہوتا ہے
’’چَین ہی چَین ہے اب جام عطا ہوتا ہے‘‘
٭


٭
’’کیسا تاریک دنیا کو چمکا دیا‘‘
ظلمتیں دوٗر کیں نوٗر برسادیا
شرک دنیا سے کیسا مٹا کر چلے
’’سارے عالم میں کیسی ضیا کر چلے‘‘
٭

٭
’’ترے حبیب کا پیارا چمن کیا برباد‘‘
خدایا! رہ نہ سکیں وہ کبھی بھی خوش آباد
اُنھیں تُو جلد مٹا، یا خدا  مدیٖنے سے
’’الٰہی نکلے یہ نجدی بَلا مدیٖنے سے‘‘
٭


٭
’’خدا کے فضل سے ہر خشک و تر پہ قدرت ہے‘‘
عیاں زمانے پہ آقا تمہاری شوکت ہے
جو شاخ لڑنے کو دو، تیغ سر بہ سر ہو جائے
’’جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہو جائے ‘‘
٭

٭
’’دلوں کو یہی زندگی بخشتا ہے‘‘
اِسی میں تو عاشق کو حاصل مزا ہے
فنا اِس میں جو ہو اُسے ہی بقا ہے
’’ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دوا ہے‘‘
٭


٭
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
نہیں جس کے دل میں وہ کیا ہو مسلماں
جو مٹ جائے اُن پر وہی با وفا ہے
’’اگر یہ نہیں ہے تو ایماں ہَوا ہے‘‘
٭

٭
’’تُو خدا کا ہُوا اور خدا تیرا‘‘
رب نے مختارِ کل تجھ کو ہی کر دیا
تیری ہی تو خدا تک رسائی ہے
’’تیرے قبضہ میں ساری خدائی ہے‘‘
٭


٭
’’ترا مرتبہ کیوں نہ اعلا ہو مولا‘‘
کہ تُو لعل ہے فاطمہ و علی کا
نبی کا دلارا شہا غوثِ اعظم
’’ہے محبوبِ ربُّ العلا غوثِ اعظم‘‘
٭

٭
’’بڑھے حوصلے دشمنوں کے گھٹا دے‘‘
اے بغداد والے تُو اُن کو مٹا دے
بڑھے جا رہے ہیں ستَم غوثِ اعظم
’’ذرا لے لے تیغِ دو دَم غوثِ اعظم‘‘
٭


٭
’’اُس رضا پر ہو مولا رضائے حق‘‘
اُس کا چرچا بڑھے از افق تا افق
جس نے مدحت تمہاری سکھائی ہے
’’راہ جس نے تمہاری چلائی ہے‘‘
٭

٭
’’محیِ سنت، حامیِ ملّت، مجدّد دین کا ‘‘
گلشنِ عشقِ نبی کا عندلیبِ خوش نوا
عاشقِ خیر الورا، وہ رہِ نُما ملتا نہیں
’’پیکرِ رُشد و ہدا احمد رضا ملتا نہیں ‘‘
٭٭٭


جانشیٖنِ مفتیِ اعظم علامہ اختر رضا قادری ازہری میاں قبلہ کے اشعارِ آب دار پر تشطیٖرات


٭
’’داغِ فرقتِ طیبہ قلبِ مضمحل جاتا‘‘
آرزوؤں کا صحرا باغ بن کے کھل جاتا
حاضری کا غم میرے دل سے مُستقل جاتا
’’کاش گنبدِ خضرا دیکھنے کو مل جاتا‘‘
٭

٭
’’مہ و خورشید و انجم میں چمک اپنی نہیں کچھ بھی‘‘
ہے ہر سوٗ روشنی جاری، انھیں کے روئے تاباں کی
مٹیں جو ظلمتیں ساری ہے صدقہ ان کی رحمت کا
’’اُجالا ہے حقیقت میں انھیں کی پاک طلعت کا‘‘
٭



٭
’’عفو و عظمتِ خاکِ مدینہ کیا کہیے‘‘
علو و رفعتِ خاکِ مدینہ کیا کہیے
کہاں سے رتبہ کبھی اِس سے اعلا پائے فلک
’’اسی تراب کے صدقے ہے اعتدائے فلک‘‘
٭

٭
’’ستم سے اپنے مٹ جاؤ گے تم خود اے ستم گارو!‘‘
فقط ہے چار دن کی چاندنی سُن لو جفا کارو!
تمہارا نام تک بھی ہو گا نہ کچھ کوے سرور میں
’’سنو! ہم کہہ رہے ہیں بے خطر دورِ ستم گر میں ‘‘
٭


٭
’’بناتے جلوہ گاہِ ناز میرے دیدہ و دل کو‘‘
قرار آتا یقیناً اس طرح سے قلبِ بسمل کو
وہ رہتے دیدۂ  تر میں تو رہتے قلبِ مضطر میں
’’کبھی رہتے وہ اِس گھر میں کبھی رہتے وہ اُس گھر میں ‘‘
٭

٭
’’ڈوبے رہتے ہیں تری یاد میں جو شام و سحر‘‘
نغمۂ  نعت سجے رہتے ہیں جن کے لب پر
غم و آلام سے لوگوں کو بچا جاتے ہیں
’’ڈوبتوں کو وہی ساحل سے لگا جاتے ہیں ‘‘
٭


٭
’’دشتِ طیبہ چھوڑ کر میں سیرِ جنت کو چلوں ‘‘
خارِ طیبہ لے کے میں گل کی تمنا کیوں کروں
کون کہتا ہے کہ ایسی آگہی اچھی نہیں
’’رہنے دیجے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں ‘‘
٭

٭
’’خاکِ طیبہ کی طلب میں خاک ہو یہ زندگی‘‘
خاکِ طیبہ میں فنا ہونے کی ہے خواہش مری
اُس کو بِن دیکھے جہاں کی ہر خوشی اچھی نہیں
’’خاکِ طیبہ اچھی اپنی زندگی اچھی نہیں ‘‘
٭


٭
’’طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مومنو!‘‘
اس میں اپنی زندگی ہرگز نہ ڈھالو مومنو!
حق کے متوالو! سنو یہ زندگی اچھی نہیں
’’تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں ‘‘
٭

٭
’’دامنِ دل جو سوئے یار کھنچا جاتا ہے‘‘
اک تصور سے ہی روضہ کے مزا آتا ہے
مجھ پہ سوغاتِ کرم اُس نے لٹایا ہو گا
’’ہو نہ ہو اس نے مجھے آج بُلایا ہو گا‘‘
٭


٭
’’دل کا ہر داغ چمکتا ہے قمر کی صورت‘‘
شامِ غم تاباں ہوئی نوری سحر کی صورت
کہکشاں سے ہے سِوا اُن کے بیانات کی رات
’’کتنی روشن ہے رُخِ شہ کے خیالات کی رات‘‘
٭

٭
’’جس کی تنہائی میں وہ شمعِ شبستانی ہے‘‘
اُس کا ہر تارِ نفَس مثلِ قمر نورانی ہے
وہ تو کہلاتی ہے انوار کے برسات کی رات
’’رشکِ صد بزم ہے اُس رندِ خرابات کی رات‘‘
٭


٭
’’اک اشارے سے کیا شق ماہِ تاباں آپ نے‘‘
پل میں لوٹایا ہے خورشیدِ درخشاں آپ نے
پتھروں نے دی گواہی اے مرے جانِ جمال
’’مرحبا صد مرحبا صلِ علیٰ شانِ جمال‘‘
٭

٭
’’حاسدانِ شاہِ دیں کو دیجیے اخترؔ جواب‘‘
اُن کی سیٖرت کا ورق روشن ہے مثلِ ماہ تاب
حشر کے دن دیکھ لینا کیسی ہے شانِ جمال
’’درحقیقت مصطفی پیارے ہیں سلطانِ جمال‘‘
٭


٭
’’نوٗر کے ٹکڑوں پہ اُن کے بدر و اختر بھی فدا‘‘
ہو رہا ہے اُن پہ وہ سدرہ کا شہِ پر بھی فدا
رشکِ مہر و ماہ و اختر ہیں سراسر ایڑیاں
’’مرحبا کتنی ہیں پیاری اُن کی دل بر ایڑیاں ‘‘
٭

٭
’’یا خدا! تا وقتِ رخصت جلوہ افگن ہی رہیں ‘‘
سختیِ خورشیدِ محشر سے حفاظت بھی کریں
تیرے پیارے کی خدایا! مہرِ انور ایڑیاں
’’آسمانِ نوٗر کی وہ شمسِ اظہر ایڑیاں ‘‘
٭


٭
’’جہاں کی بگڑی اسی آستاں پہ بنتی ہے‘‘
ہر اک کو نعمتِ دارین اُن سے ملتی ہے
جو ان کے در پہ مِٹوں کام یاب ہو جاؤں
’’میں کیوں نہ وقفِ درِ آں جناب ہو جاؤں ‘‘
٭

٭
’’تپشِ مہرِ قیامت کو سہیں ہم کیسے‘‘
سوچتے ہیں کہ اِس دل سے مٹیں غم کیسے
سایۂ  گیسوٗے رحمت مرے آقا دے دو
’’اپنے دامانِ کرم کا ہمیں سایا دے دو‘‘
٭


٭
’’نہیں جچتی جنت بھی نظروں میں ان کی‘‘
پسند اُس کو گل کی نہ کچھ تازگی بھی
کہ جو ہو گیا ہے نثارِ مدینہ
’’جنھیں بھا گیا خارزارِ مدینہ‘‘
٭

٭
’’گردشِ دور نے پامال کیا مجھ کو حضور‘‘
غم و آلام سے میں ہو گیا آقا رنجور
گنبدِ سبز دکھاؤ تو بہت اچھا ہو
’’اپنے قدموں میں سلاؤ تو بہت اچھا ہو‘‘
٭


٭
’’ہر گلِ گلسِتاں معطر ہے‘‘
باغِ خلدِ بریں معنبر ہے
عرقِ پاکِ شہِ مدیٖنے سے
’’جانِ گل زار کے پسیٖنے سے‘‘
٭

٭
’’بارگاہِ خدا میں کیا پہنچے‘‘
اس پہ فضلِ خدا بھی کیا برسے
دوٗر جو ہو گیا مدیٖنے سے
’’گِر گیا جو نبی کے زیٖنے سے‘‘
٭


٭
’’یہ کس کے دم سے مِلی ہے جہاں کو تابانی‘‘
زمانہ کس کے کرم سے ہوا ہے نورانی
اُجالا پھیلا ہر اک سمت نوٗرِ آقا سے
’’مہ و نجوٗم ہیں روشن منارِ طیبہ سے‘‘
٭

٭
’’جو ہیں مریضِ محبت یہاں چلیں آئیں ‘‘
کہ چارہ گر سے ہر اک درد کی دوا پائیں
کبیدہ ہوں نہ کبھی بھی ستم کے دریا سے
’’صدا یہ آتی ہے سُن لو مزارِ مولا سے‘‘
٭


٭
’’میں تو ہوں بلبلِ بُستانِ مدینہ اخترؔ ‘‘
زینتِ شمعِ شبستانِ مدینہ اخترؔ
شوق ہیں شاہِ مدینہ کی صفت آرائی کے
’’حوصلے مجھ کو نہیں قافیہ آرائی کے‘‘
٭

٭
’’کس کو سنائیے گا یہاں غم کی داستاں ‘‘
ہے کون جو کرے گا مداوائے غم یہاں
جتنے تھے سب رفیق ہمارے، بدل گئے
’’جو غم میں ساتھ دیتے وہ سارے بدل گئے‘‘
٭


٭
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘
مجھے بخشش کا اب اپنے یقیٖں ہے
تصور میں مرے وہ دل نشیٖں ہے
’’مجھے کچھ فکرِ دو عالم نہیں ہے‘‘
٭

٭
’’پی کے جو مست ہو گیا بادۂ  عشقِ مصطفا‘‘
ہر ایک سے بلند تر رتبہ اُسے تو مِل گیا
حاصل اُسے بقا ہوئی اُلفت میں جو فنا ہوا
’’اُس کی خدائی ہو گئی اور وہ خدا کا ہو گیا‘‘
٭


٭
’’گردشِ دور یا نبی ویران دل کو کر گئی‘‘
یورشِ کرب و ابتلا حیران دل کو کر گئی
شاہِ مدینہ لیں خبر اب مجھ پہ وقت سخت ہے
’’تاب نہ مجھ میں اب رہی دل میرا لخت لخت ہے‘‘
٭

٭
’’اخترِ خستہ طیبہ کو سب چلے تم بھی اب چلو!‘‘
راہِ طیبہ کی طرف چلتے ہوئے پھولو پھلو!
کیف میں جھومتے رہو اوج پہ پہنچا بخت ہے
’’جذب سے دل کے کام لو اُٹھو کہ وقتِ رفت ہے‘‘
٭


٭
’’ترس کھاؤ مری تشنہ لبی پر‘‘
رحم فرماؤ مجھ پر شاہِ کوثر
یہ بندہ طالبِ لطف و کرم ہے
’’مری پیاس اور اک جام! کم ہے‘‘
٭

٭
’’خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے‘‘
تمہاری ذات ہی تو باعثِ ایجادِ خلقت ہے
تمہارے دم قدم سے ہی بہارِ باغِ جنت ہے
’’دو عالم پر تمہاری سلطنت ہے بادشاہت ہے‘‘
٭


٭
’’تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے‘‘
نجم و قمر کے لب پر جاری یہ ہر گھڑی ہے
طیبہ کے ذرّے ذرّے سے ہر سمت روشنی ہے
’’مرکز تجلیوں کا خاکِ درِ نبی ہے‘‘
٭

٭
’’یکتا ہیں جس طرح وہ ہے اُن کا غم بھی یکتا‘‘
ہے بالیقیں سبب یہ تسکیٖنِ روح و دل کا
جس کو مِلا یہ لوگو! قسمت کا وہ دھنی ہے
’’خوش ہوں کہ مجھ کو دولتِ انمول مِل گئی ہے‘‘
٭


٭
’’ریٖت آقا کی چھوڑ دی ہم نے‘‘
ہم کو گھیرا اسی لیے غم نے
دوٗر اِس سے تو تاجِ شاہی ہے
’’اپنی مہمان اب تباہی ہے‘‘
٭

٭
’’ساقیِ کوثر دہائی آپ کی‘‘
فوجِ غم چھائی دہائی آپ کی
سوے ما چشمِ عنایت کیجیے
’’سوختہ جانوں پہ رحمت کیجیے‘‘
٭


٭
’’کیجیے اپنا محض اپنا مجھے‘‘
ہو منوّر دل تمہارے عشق سے
دوٗر دنیا کی محبت کیجیے
’’قطع میری سب سے نسبت کیجیے‘‘
٭

٭
’’جہاں بانی عطا کر دیں بھری جنت ہبہ کر دیں ‘‘
وہ بِن مانگے گدا کو نعمتِ عظمیٰ عطا کر دیں
شہِ کوثر غم و آلام کو دل سے فنا کر دیں
’’نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کر دیں ‘‘
٭


٭
’’گوش بر آواز ہوں قدسی بھی اُس کے گیٖت پر‘‘
چوم لیں اُس کی زباں کو وجد میں وہ جھوم کر
اُن کی عظمت کے ترا نے جب سنائے خیر سے
’’باغِ طیبہ میں جب اخترؔ گنگنائے خیر سے‘‘
٭

٭
’’مفتیِ اعظم یکے از مردمانِ مصطفی‘‘
ہیں وہی سالارِ عالی، عاشقانِ مصطفی
اُن سے جو پھر جائے اُس کی زندگی اچھی نہیں
’’اس رضائے مصطفی سے دشمنی اچھی نہیں ‘‘
٭٭٭



٭٭٭